لہسن

لہسن

عمومی جائزہ

garlic-1400584_640لہسن کے پودے میں بلب کی شکل کا حصہ جو جڑ کے ساتھ ہوتا ہے عام طور پر کھانوں میں ذائقہ اور لذت کے اضافہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لہسن للیlily فیملی سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا سائنسی نام ایلیم سیٹیوُم Allium Sativum ہے۔ اس کے قریبی رشتہ دار پیاز Onion اور ہری پیازLeeks ہیں۔

لہسن پورے ایشیا میں اور خاص طور پر جنوبی ایشیائی ممالک میں کھانوں کا ایک اہم ترین جزو ہے اور اسے کھانوں میں ذائقہ بڑہانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں مخصوص چبھتی ہوئی بو ہوتی ہے جو اس میں موجود سلفر کی وافر مقدار کی وجہ سے ہوتی ہے۔

انتہائی قدیم زمانہ سے مصری، رومن، یونانی، جاپانی اور چینی اطبا لہسن کو دوائوں میں استعمال کرتے رہے ہیں۔ عام طور پر اس کو بلند فشار خون کو کنٹرول کرنے، زخموں کو مندمل کرنے،جراثیم سے محفوظ رکھنے، رسولیوں کے علاج اور اکثر عام کمزوری کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

لہسن میں بہت سے فائدہ مند نباتاتی کیمیائی مادے جن کو فوٹوکیمیکل کہا جاتا ہے پائے جاتے ہیں۔ان میں ایک خاص کیمیائی مادہ ایلیسن Allicin ہے جس میں بہت زیادہ مقدار سلفر کی ہوتی ہے۔ ایلیسن کے لیے یہ باور کیا جاتا ہے کہ وہ انتہائی موثر اینٹی اوکسیڈنٹ Antioxidant خصوصیات کا حامل ہے۔ اس کے علاوہ بھی لہسن میں دوسرے کیمیائی مادے مثلًا سیلینیم Selenium ، فلیوونوائڈ flavonoids اور سلفرSulphur سے بھرپور ایمائنو ایسڈ Amino acid بھی پائے جاتے ہیں جو صحت کے لئے بہت مفید ہوتے ہیں۔

لہسن جہاں قدرتی شکل میں استعمال ہوتا ہے وہیں اس کو صنعتی طور پر مختلف شکلوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جن میں لہسن کا پاؤڈر، لہسن کا تیل اور گولیوں اور کیپسولوں کی شکل میں بھی بازار میں ملتا ہے۔ لیکن سب سے بہتر یہی ہے کہ اس کو قدرتی شکل میں استعمال کیا جائے۔

لہسن کے ممکنہ طبی فوائد

بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں نے لہسن کے اوپر قابل لحاظ تحقیقات کی ہیں تاکہ لہسن کے مختلف بیماریوں میں طبی فوائد کے بارے میں جانا جا سکے۔

معتبر ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اگر لہسن کا باقائدہ خاص مقدار میں استعمال کیا جائے تو صحت پر واضح طور پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں مثلًا جو لوگ باقائدگی سے لہسن کا استعمال زیادہ کرتے ہیں وہ کینسر کی کچھ اقسام سے خاص طور پر معدہ اور بالائی نظام ہضم کے سرطان سے محفوظ رہتے ہیں۔

اکثر تحقیقاتی مطالعے لہسن کو قدرتی شکل میں استعمال کرنے کے بجائے اس کے مختلف اجزاء اور اس کے سپلیمنٹس کی بنیاد کیے گئے ہیں جبکہ معتبر تحقیقات اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ لہسن کا اس کی قدرتی حالت میں استعمال اس کے خلاصوں اور سپلیمنٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مفید ہے۔

لہسن کوعام طور پر مندرجہ ذیل علامات میں استعمال کیا جاتا ہے:

بلند فشار خون اور دل کے امراض

لہسن میں موجود کیمیائی مادہ ایلیسن Allicin ضد سوزش Anti-inflammatory خصوصیات کےباعث شریانوں کی دیواروں غیر ضروری ورم اور سوزش کو ختم کرکے خون کی نالیوں میں پپڑیاں جمنے کے خطرات کو کم کرتا ہے اور خون کی نالیوں کو نرم اور لچکدار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

خون میں موجود ذرات جن کو پلیٹیلٹس Platelets کہتے ہیں ان کا ایک اہم کام یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی زخم کی وجہ سے خون کے غیرضروری اخراج کو روکنے کے لیے بہنے والے خون کو جما کر کھرنڈ بنا دیتے ہیں۔ پلیٹیلٹس کی یہی خصوصیت کبھی کبھار خون کی نالیوں میں بھی خون کے جمنے کا باعث بن جاتی ہے اور خون کے جمنے سے پیدا ہونے والے لوتھڑے خون کے بہاؤ میں رکاوٹ کا باعث بن جاتے ہیں اور فالج اور ہارٹ اٹیک کا خظرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ تجربوں سے اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ لہسن خون کے جمنے کے اس عمل کو اعتدال میں رکھ کر دل کے دورے اور فالج کے خطرات کو کم کرتا ہے

سرطان Cancer

بہت سی بڑے پیمانے پر کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کو وہ لوگ جو باقائدگی سے لہسن کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں بہت سے اعضاء کے سرطان مثلًا معدہ، غذا کی نالی Esophagus، مقعد، لبلبہ اور چھاتی کے سرطان کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یورپ اور چین میں کی جانی والی بڑے پیمانے پر تحقیقات میں یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ زیادہ مقدار میں لہسن کے استعمال کا اور معدہ اور فضلہ کے اخراج کی نالی کے کینسر سے بچاؤکا بہت گہرا تعلق ہے۔ اسی طرح امریکہ میں کیے جانے والے تجربات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ لہسن اور ایلیُیم فیملی کی سبزیوں کے زیادہ مقدار میں استعمال سےپروسٹیٹ prostate کے سرطان کے خطرات میں 50 فیصد تک کی کمی واقعہ ہوتی ہے۔

اب اس بات پر بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ لہسن کے استعمال سے ذیابیطس کے اور خاص طور پر ٹائپ 2 کی ڈایابٹیز پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

کولسٹرول میں کمی

کچھ تجربات سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ لہسن کے استعمال سے کولسٹرال خاص طور پر LDL (خراب کولسٹرول) میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کو ثابت کرے کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

لہسن کیسے استعمال کیا جائے

لہسن کو کھانا پکانے میں عام طور پر تمام ہی ڈشز میں استعما ل کیا جاسکتا ہے۔ عام طور پر اس کو کھانوں کا ذائقہ اور لذت کو بڑہانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے لہسن کے کچھ جوے پیس کر یا کچل کر کھانوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

بین الاقوامی ادارہ صحت WHO اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ دو سے پانچ گرام (ایک سے دو جوے) لہسن روزانہ استعمال کرنے سے صحت برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

تاہم واضح نتائج حاصل کرنے کے لیے بعض ماہرین طب مشورہ دیتے ہیں کہ 2 سے 3 جوے لہسن روزانہ استعمال کرنے چاہییں۔ 2 سے 3 جوے لہسن میں ایلیسن Allicin کی مطلوبہ مقدار موجود ہوتی ہے۔ Allicin کچھ دوسری سبزیوں میں بھی پایا جاتا ہے جیسے کہ پیازonion اور ہری پیاز leeks وغیرہ

ممکنہ مضر اثرات

لہسن جیسے کہ عام طور پر لوگ کھانوں میں استعمال کرتے پیں محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم کچا لہسن کھانے سے جسم اور سانس میں ناگوار بو پیدا ہوسکتی ہے۔

خالی معدہ میں کچا لہسن کھانے سے بعض لوگوں میں تیزابیت اور متلی وغیرہ کی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔

لہسن کا استعمال بعض ادویات کے ساتھ

وہ مریض جو ایسی ادویات استعمال کرتے ہیں جن سے خون پتلا ہوتا ہے وہ لہسن کے استعمال کے سلسلہ میں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرلیں

Add Comments