Breast Cancer | چھاتی کا کینسر

  1. Homepage
  2. Breast Cancer | چھاتی کا کینسر
Breast Cancer | چھاتی کا کینسر

چھاتی کا کینسر


Simplified Illustration of a Female Breast
Simplified Illustration of a Female Breas

 

خواتین کی چھاتی  باہم  مربوط بافتوں(connective tissues) ، چربی، خون کی نالیوں، لمف نوڈز (Lymph nodes)  اور دودھ کے چھوٹے چھوٹے ذخیرے یعنی لوبیولز (Lobules) نامی ہزاروں چھوٹے چھوٹے غدود سے بنی ہوتی ہے۔ لوبیولز بچے کی پیدائش کے بعد دودھ پیدا کرتے ہیں۔ یہ دودھ پتلی پتلی نالیوں سے ہوتا ہوا نپلز (Nipples) تک پہنچتا ہے جنہیں دودھ کی نالیاں یا ملک ڈکٹس (Milk ducts) کہا جاتا ہے۔ لوبیولز اور دودھ کی نالیوں کے گرد چربی والی بافتیں ہوتی ہیں جنہیں سٹروما (Stroma) کہا جاتا ہے۔

 

 عام طور پر ہمارے جسم میں تمام خلیات ایک مربوط انداز میں بڑھتے ہیں۔ پرانے خلیات مرتے رہتے ہیں اور ان کی جگہ نئے خلیات لے لیتے ہیں۔ جب اس قدرتی عمل میں کوئی خرابی پیدا ہو جاتی ہے تو خلیات کے پیدا ہونے کا عمل قابو سے باہر ہو جاتا ہے اور سرطان یا کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

 

چھاتی کا کینسر دنیا بھر کی خواتین میں کینسر کی سب سے زیادہ پائی جانے والی اقسام میں سے ایک ہے۔

حالیہ اندازوں کے مطابق پاکستان کا شمار ایشیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں چھاتی کے کینسر کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ ہر آٹھ میں سے ایک عورت کو چھاتی کے کینسر کا امکان ہوتا ہے اور ہر سال چالیس ہزار خواتین اس کی وجہ سے موت کا شکار ہوتی ہیں۔

اگر اس کی تشخیص اور علاج ابتدائی مرحلے پر ہو جائے تو اسے جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔

 

چھاتی کی اکثر گلٹیاں اور خلیوں میں غیر معمولی نمو ضرر رساں نہیں ہوتی، یعنی وہ کینسر نہیں ہوتے۔ تاہم ان کا میڈیکل چیک اپ بہت ضروری ہے تاکہ  ذہنی اطمنان ہو جائے۔کیونکہ کبھی کبھی گلٹیاں اور رسولیاں سرطان یعنی کینسرکی وجہ سے بھی ہوتی ہیں چناچہ خوفزدہ ہونے کے بجائے حوصلے سے اس کی تشخیص بروقت کرانے کے لیے ً ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

 

چھاتی کے کینسر میں نالیوں اور لوبیولز میں خلیوں کی غیر معمولی رفتار  سے بڑھوتریgrowth ہوتی ہے۔  اکثر چھاتی کا کینسر دودھ کی نالیوں(Milk ducts)  کے خلیات سے شروع ہوتا ہے لہزا اسے (Ductal) کہا جاتا ہے، جبکہ کچھ لوبیولز میں پیداہوتا ہے جسے (Lobular) کہا جاتا ہے۔

 

عام طور پر  خلیات میں غیر معمولی افزائش  ایک گلٹی یا رسولی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں جسے چھاتی کا ٹیومر یا سسٹ (Tumor or cyst) کہا جاتا ہے۔

تمام ٹیومر کینسر نہیں ہوتےہیں چنانچہ جہاں  یہ ٹیومر نقصان نہ پہنچانے والا یعنی benign  یاکینسر کے بغیر (Non-cancerous) بھی ہو سکتا ہے وہاں نقصان پہنچانے والا یعنی کینسر والا (Cancerous) بھی ہو سکتا ہے۔

 

چھاتی کے کینسر کی اقسام

بنیادی طور پر چھاتی کے کینسر کو دخل پذیر اور غیر دخل پذیراقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

 

چھاتی کا دخلپذیر کینسرInvasive cancer

چھاتی کے دخل پذیر کینسر میں کینسر کے خلیات میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ آس پاس کے خلیات میں پھیل جائیں اور خون یا لیمفیٹک (Lymphatic) نظام کے زیعے جسم کے دوسرے اعضاء تک پھیل جائیں۔ یہ نالیوں یا لوبیولز سے شروع ہو سکتا ہے۔ کینسر کی زیادہ پائی جانے والی قسم نالیوں Ducts سے شروع ہوتی ہے۔

 

چھاتی کا غیر دخلپذیر کینسر Non-invasive cancer

اس قسم کے کینسر میں جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ چھاتی کے غیر دخل پذیر کینسر میں گلٹی بننے کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔ ان کو کارسینوما ان سیٹو (Carcinoma-in-situ) کہا جاتا ہے، یعنی اپنی جگہ پر رہنے والے خلیات جو پھیلتے نہیں ہیں۔ نالیوں کا کارسینوما ان سیٹو غیر دخلپذیر کینسر کی سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم ہے۔ ان کو کینسر سے پہلے ہونے والی حالت خیال کیا جاتا ہے اور ان کی موجودگی کی صورت میں دخل پذیر کینسر کے پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

چھاتی کے کینسر کی سب سے زیادہ نمایاں علامت چھاتی میں ایک گلٹی یا رسولی کی موجودگی ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ خواتین ان علامات کو نظر انداز نہ کریں اور کینسر کی ماہر ڈاکٹر سے جانچ کروائیں۔

 

اس کے علاوہ دیگر علامات مندرجہ ذیل ہیں:

۔ایک یا دونوں چھاتیوں کی شکل یا حجم میں تبدیلی

۔ ایک یا دونوں نپلز سے سیال مادہ کا اخراج (اس میں خون بھی ہو سکتا ہے)

۔ ایک یا دونوں بغلوں میں سوجن یا گلٹیاں

۔ نپلز کی شکل میں تبدیلی مثلاً نپلز کا لٹک جانا یا چھاتیوں میں دھنس جانا

۔نپلز کے گرد جلد کی رنگت میں تبدیلی یا خراشیں

۔ نپلز کے گرد جلد پر چھلکے بننا یا رنگت میں تبدیلی

۔ چھاتیوں کے گرد جلد میں گڑھے بننا، جیسا کہ مالٹے کے چھلکے میں ہوتے ہیں

۔ نپلز میں درد یا ان کا ایک طرف کو ڈھلک جانا

۔ چھاتیوں میں درد

۔ چھاتیوں کی جلد میں جلن

چھاتی کے کینسر کی کوئی حطّمی وجہ معلوم نہیں، البتہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے خاندانی پس منظر اور بعض جینز (Genes) کی موجودگی سے چھاتی کے کینسر کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ماحول اور ہارمونل (Hormonal) عوامل بھی چھاتی کے کینسر کے ذمہ دار ہیں۔

 

کینسر کی دیگر اقسام کی طرح چھاتی کے کینسر کی وجہ بھی خلیات کا بے قابو طریقے سے بڑھنا ہے۔ چھاتی کے کینسر میں یہ اکژ نالیوں یا لوبیولز میں تقسیم ہو کر بڑھنے کا عمل شروع کرتے ہیں۔ یہ خلیات لمف نوڈز یا جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل سکتے ہیں۔

 

وراثتی عناصر

ایک اندازے کے مطابق 5-10٪ چھاتی کے کینسر میں کچھ موروثی عناصر ہوتے ہیں۔

کچھ چھاتی کے کینسر جین میں تبادلے کے ذریعے ایک نسل سے دوسری میں منتقل ہوتے ہیں۔ دو جین، BRCA1 اور BRCA2  کی موجودگی چھاتی کے کینسر کے ہونے کے امکان کو بہت حد تک بڑھا دیتی ہے۔

 

خاندانی پس منظر

ایسی خواتین جن کے خاندان میں چھاتی کا کینسر پایا جاتا ہو (قریبی خون کے رشتہ داروں میں)، میں چھاتی کے کینسر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

چھاتی کا کینسر ان خواتین میں زیادہ عام ہے جن کے قریبی رشتہ داروں کو چھاتی یا رحم کا کینسر ہو۔

 

عمر

عمر میں اضافے کے ساتھ چھاتی کے کینسر کے خدشہ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ یہ عموماً 50 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کو ہوتا ہے جو کہ سن یاس (Menopause) ، یعنی ماہواری کا بند ہو جانا، سے گزر چکی ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے 50 سے 70 سال کی عمر کی تمام خواتین کو ہر تین سال میں ایک دفعہ چھاتی کے کینسر کی جانچ کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

 

ماضی میں چھاتی میں نقصان نہ پہنچانے والی گلٹی کی موجودگی

ایسی خواتین میں چھاتی کے کینسر کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے جنہیں ماضی میں نقصان نہ پہنچانے والی گلٹیاں رہی ہوں۔

 

دیگر عوامل

ان کے علاوہ ایسٹروجن (Estrogen) یعنی نسوانی خصوصیات کو برقرار رکھنے کےلیے ہارمونز کا کثرت سے استعمال، وزن میں اضافہ، چھاتی کے گھنے ریشے، شراب نوشی، تابکاری (Radiation) اور ہارمون ریپلیسمنٹ تھیراپی (Hormone replacement therapy) بھی چھاتی کے کینسر کی وجہ بن سکتی ہیں۔ ایسی خواتین جن کے بچے نہیں ہوتے یاجن کا پہلا بچہ 35 سال کی عمر کے بعد ہوتا ہے،ان کو اپنا معائنہ پابندی سے کراتے رہنا چاہیے

اگر جلد تشخیص ہو جائے تو بریسٹ کینسر کا تسلی بخش علاج کیا جا سکتا ہے۔ لہذا ایسی خواتین، جن میں کینسر کےخطرے کے عوامل زیادہ ہوں ان کیلئے ضروری ہے کہ وہ پابندی سے  اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

 

چھاتی کا ازخود معائنہ

30 سال سے زائد عمر کی خواتین کو مہینے میں ایک دفعہ ازخود چھاتی کا معائنہ کرنا چاہیے۔ اپنے ہاتھوں کے زریعے گلٹی یا رسولی کو تلاش کریں اور اپنی چھاتی اور بغلوں کا شیشے میں معائنہ کریں اور دیکھیں کہ اس کے حجم اور شکل میں کوئی تبدیلی تو واقع نہیں ہوئی۔

 

چھاتی کے کینسر کی تشخیص کیلئے کئے جانے والے ٹیسٹ مندرجہ ذیل ہیں:

 

بریسٹ کا کلینکل معائنہ (Clinical breast examination)

اس میں ڈاکٹر دونوں چھاتیوں، بغلوں، اور لمف نوڈز کا معائنہ کرے گی اور گلٹی یا رسولی کی موجودگی کا پتہ لگائے گی۔

 

میموگرافی (Mammography)

چھاتی کے ایکسرے کو میموگرام (Mammogram) کہا جاتا ہے اور ان کو عام طور پر اسکریننگ (Screening) اور تشخیص کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر کسی غیر معمولی چیز کا پتہ چلے تو مزید جانچ کیلئے اور ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔

 

چھاتی کا الٹراساؤنڈ (Ultrasound)

الٹراساؤنڈ میں آواز کی لہروں کی مدد سے جسم میں موجود ڈھانچے کی تصاویر پیدا کی جاتی ہیں۔ چھاتی کے الٹراساؤنڈ سے پتہ چلایا جاتا ہے کہ گلٹی یارسولی ٹھوس ہے یا اس میں سیال مواد ہے۔

 

بائیوپسی (Biopsy) ، ٹیسٹ کیلئے چھاتی کے خلیات کا نمونہ لینا

اس کو چھاتی میں موجود گلٹی کے خلیات کا نمونہ حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہےتاکہ خردبین کے زریعے اس کا معائنہ کیا جا سکے۔ بائیوپسی کو خلیات کی قسم اور گریڈ (Grade) کا پتہ چلانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

 

چھاتی کی میگنیٹک ریزوننس امیجنگ (MRI)

MRI مشین ریڈیو (Radio) اور مقناطیسی لہروں کے زریعے چھاتی کے اندرونی ڈھانچے کی تصاویر پیدا کرتی ہے۔ چھاتی کی بے قاعدگی کی تشخیص کیلئے MRI کو میموگرافی کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔

 

چھاتی کے کینسر کی تشخیص اور مرحلہ کو جاننے کیلئے کیے جانے والے دیگر ٹیسٹ مندرجہ ذیل ہیں:

۔  خون کے مکمل اجزاء کی جانچ اور دیگر خون کے ٹیسٹ

۔ کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی سکین (CT scan)

۔ پوزیٹرون ایمیشن ٹوموگرافی سکین (PET scan)

۔ ہڈیوں کا سکین

BRCA1 اور BRCA2 جین کی جنیاتی ٹیسٹنگ

۔ سوئی کے زریعے بایوپسی

 

ہر مریض کو ان سب ٹیسٹوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر کو معلوم ہوتا ہے کہ مخصوص صورتحال اور علامات کے مطابق مریض کو کن ٹیسٹوں کی ضرورت ہے۔

اگر چھاتی کے کینسر کا علاج ابتدائی مرحلے میں کیا جائے تو اس کے پھیلنے کا امکان کم ہوتا ہے۔ چھاتی کے کینسر کا علاج عام طور پر جراحت، ریڈیائی لہروں کے ذرئعے علاج ، اور کیموتھیراپی (Surgery, radiotherapy, and chemotherapy) کو ملا کر کیا جاتا ہے۔

 

علاج کی قسم اور سرجری مریض کی صورتحال پر منحصر ہوتی ہے۔ اکثر مریضوں میں سرجری کو چھاتی کا متاثرہ حصہ یا مکمل چھاتی کو نکالنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے میسٹیکٹومی (Mastectomy) کہا جاتا ہے۔ سرجری کی قسم کا دارومدار کینسر کی قسم اور درجہ پر بھی ہوتا ہے۔ سرجری یا دوسرے طریقہ علاج سے پہلے ڈاکٹر سے اس کے بارے میں تبادلہ خیال کرنا چاہیے۔

 

سرجری کے بعد اکثر کیموتھراپی، ریڈیو تھراپی، ہارمونل تھراپی یا میڈیکل تھراپی کی جاتی ہے۔

کیموتھراپی میں کینسر کے خلیات کو مارنے یا محدود کرنے کیلئے ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ریڈیو تھراپی میں کینسر کے خلیات کو ختم کرنے کیلئے طاقتور شعاؤں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ہارمونل تھیراپی کینسر کے خلیات تک ایسے ہارمونز کو پہنچنے سے روکتی ہے جو ان کی افزائش کیلئے ضروری ہوتے ہیں۔ حیاتیاتی علاج جسم کے مدافعتی نظام کے ساتھ مل کر کینسر کے علاج کے ضمنی اثرات پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے اور کینسر کے خلاف بھی لڑتا ہے۔

 

بعض عورتوں میں کینسر چھاتی سے باہر پھیل جاتا ہے جسے (Metastasized) یا بڑے درجے کا کینسر کہا جاتا ہے۔ علامات پر قابو پانے اور معیار زندگی کو برقرار رکھنے کیلئے اس کا علاج کیا جاتا ہے۔

چھاتی کے کینسر کے بعد زندگی میں کافی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ سرجری کے بعد درد اور کیمو تھراپی کے اثرات سے نمٹنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہت سی خواتین کو زھنی دباؤ یا ڈپریشن (Depression) کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ خاندان کا سہارا اور دعائیں مریض کو اس صورتحال سے نمٹنے میں مدد دیتی ہیں۔

 

اس کے علاوہ چھاتی کے کینسر سے متاثرہ دوسری خواتین کے بارے میں جان کر، اور یہ جان کر کہ وہ کس طرح اس کا مقابلہ کر رہی ہیں، مریض کو حوصلہ ملتا ہے۔

 

حالیہ برسوں میں، بہت سی نئی ادویات چھاتی کے کینسر کے لئے منظور کی گئی ہیں۔ ان میں سے بہت سی کافی مؤثر ہیں۔ چھاتی کے کینسر کے مریضوں کی بڑی تعداد زندہ رہتی ہے اور کئی دہائیوں تک معقول حد تک صحت مند زندگی گزارتی ہے۔

Author Avatar

About Author

Loremipsumdolorsitamet,consecteturadipisicingelit,seddoeiusmodtemporincididuntutlaboreetdoloremagnaaliquatenimadminimveniam.Eascxcepteursintoccaecatcupidatatnonproident,suntinculpaquiofficiadeserunt.

Add Comments