Health & Wellness | صحت اور خوشگوار طرزِ زندگی

  1. Homepage
  2. Healthy Living
  3. Health & Wellness | صحت اور خوشگوار طرزِ زندگی

صحت اور خوشگوار طرزِ زندگی


صحت اور خوشگوار طرزِ زندگی


صحت


مکمل صحت – ایک ہی وقت میں جسمانی ، ذہنی اور سماجی آسودگی کی کیفیت کا نام ہے صرف کسی بیماری یا مرض کا عدمِ وجود ہی نہیں ہے ۔(WHO)


ذہنی اور جسمانی آسودگی کی یہ کیفیت کسی فرد کو جدوجہد اور محنت کرنے پر آمادہ کرتی ہے تاکہ وہ اپنی خواہشات اور آرزووں کو پورا کر سکے اور اپنی ذاتی اور خاندانی ترقی کے ساتھ ساتھ معاشرے اور سماج کے لیے بھی مثبت کردار ادا کرسکے ۔


Balance - ladoga-1571954_640صحتمندی کا دارومدار بہت سے عوامل پر ہوتا ہے ۔ ہمارے کھانے پینے کی عادات کے ساتھ ساتھ ہماراماحول ، ہماری تعلیم، ہماری معاشی او رسماجی حیثیت ، شہری سہولیات کی دستیابی اور آب وہوا کے علاوہ ہماری جینیاتی وراثت بھی ہماری ذاتی اور اجتماعی صحت اور طرز زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔



فلاح و بہبود


فلاح و بہبود حقیقتاً خوشگوار طرزِ زندگی کا نام ہے جس کے تحت لوگ اپنے طرز زندگی میں بہتر معلومات کی بنیاد پر تبدیلیاں لاکراور دستیاب عوامل میں سے بہتر عوامل کا انتخاب کر کے زندگی کو کامیاب اور خوشگوار بناتے ہیں۔



فلاح و بہبود کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ اجتماعی اور حکومتی سطح پر بھی ۔ انفرادی سطح پر شعوری طور پر دستیاب وسائل میں سے صحتمندانہ طرز زندگی کے وسائل کا انتخاب کرنا، اجتماعی سطح پر صحتمندانہ رویوں کی ترویج مثلاً صبح کو جلدی بیدار ہونا اور رات کو جلدی سونا۔ تقریبات میں صحت بخش اور حفضانِ صحت کے اصولوں کے مطابق کھانوں کا انتخاب، ماحول کی صفائی اور معاشی جدوجہد اور تفریحی مصروفیات میں توازن برقرار رکھنا وغیرہ، اور حکومتی سطح پر صحت سے متعلق قوانین وضع کرنا اور ان کے نفاذ کو یقینی بنانا، شہری اور دیہی ماحول کو صحتمند رکھنے کے لیے موسم کے مطابق حفضان صحت کے اقدامات کو یقینی بنانا اور لوگوں میں صحتمند رویوں سے متعلق شعوربیدار کرنا وغیرہ۔


فلاح و بہبود درحقیقت ہمہ وقتی عمل کا متقاضی ہے اور اس کو جہدِ مسلسل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔


فلاح و بہبود کی مختلف جہتیں ہیں ان کو مختصراً مندرجہ ذیل درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:


سماجی فلاح وبہبود


ماحول اور فطرت سےلگاؤکی بنیاد پر اس کی بہتری کے لیے ذاتی اور اجتماعی سطح پرکوشش کرنا۔ اس کے نتیجے میں خاندان، دوستوں اور سماج میں باہمی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔


جذباتی فلاح وبہبود


اس کے ذریعے ہمیں اپنےآپ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور ہم کو مختلف جذباتی کیفیتوں اور محسوسات مثلاً خوشی، غم، امید،مزاح، خوف اور غصہ وغیرہ کو سمجھ کر ان کے مطابق اپنے رویوں میں مناسب ردوبدل کی صلاحیت پیدا کرنےاور ان جذباتی تغیرات کو مثبت انداز میں استعمال کرنے میں مدد ملتی ہے۔


جسمانی فلاح وبہبود


اپنی جسمانی صحت کے لیے صحتمندانہ اطوار اور عادتوں کو اپنا کر ایک فعال فرد کی حیثیت سے معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے میں مدد ملتی ہے۔جسمانی فلاح کےلیے حفضانِ صحت کی عادتوں کو اپنا کر جہاں صحت بخش غذا کے استعمال کو یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے وہیں صحت کے لیے نقصان دہ عادتوں مثلاً تمباکو اور الکحل کے استعمال سے مکمل اجتناب بھی انتہائی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی ذہنی اور جذباتی تناؤ کو کم کرنے کے لیے ورزش کی عادت اپنانا چاہیے۔ضرورت کے مطابق اپنی صحت کے سلسلے میں تجربہ کار طبیبوں سے معائینہ کراتے رہنا بھی جسمانی صحت کے لیے ضروری ہے۔


معاشی اور معاشرتی معمولات میں توازن


کامیاب زندگی کے لیے معاشی مصروفیات اور معاشرتی معمولات میں ایک ایسے توازن کی ضرورت ہے جس میں فرد جہاں اپنی معاشی کاوشوں کے نتایج سے مطمئن ہو وہیں سماجی اور خاندانی معاملات میں بھی آسودگی محسوس کرے


معاشی فلاح و بہبود


معاشی فلاح کے لیے ضروری ہے کہ ایسے ذرائع مسلسل میسر ہوں جن کے ذریعے افراد کواپنے سماجی دائرہ میں ترقی اور خوشحالی کے مواقع ملتے رہیں۔


روحانی فلاح و بہبود


ایک صحتمند معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ افراد روحانی طور پر بالغ نظر ہوں ، ان کو اس دنیا میں اپنی زندگی کےمقصد سے آگاہی ہواور انہیں اس بات کا شعور ہو کہ قدرت نے ان کو کتنی فیاضی سے انگنت نعمتوں سے نوازا ہےاور اس احساس ممنونیت کےاظہار کے لیے باقائدگی سے اپنے عقائد کے مطابق عبادات بجا لانی چاہیئں اور اپنے معاشرے کے دوسرے افراد کے ساتھ سماجی سرگرمیوں میں امداد باہمی اورانسان دوستی کے جذبہ کے ساتھ حصہ لینےسےمتوازن اور خوشگوار تعلقات کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے اور ایک پرامن اور کامیاب معاشرے کی بنیاد بنتی ہے


فکری فلاح وبہبود


تعمیری سوچ اوربلند نظری کو فروغ دینے کے لیےجدید نظریات اور ایجادات سے آگاہی افراد اور معاشرے میں فکری ترقی اور فلاح کا ذریعہ بنتی ہے۔دانشورحضرات اپنے تجربات اور اپنے افکار کی ترویج کر کے معاشرے کے افراد کی فکری تربیت اورترقی کا باعث بنتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں مختلف شعبوں میں جدید تعمیراتی نظریات اور افکار فروغ پاتے ہیں اور معاشرہ بحیثیت مجموعی ترقی کرتا ہے۔


ماحولیاتی فلاح وبہبود


معاشرے میں اس احساس کو بیدار کرتے ہوئے ماحولیات کے قدرتی توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے تاکہ لوگ موجود وسائل کے بےجا استعمال سے اجتناب کریں جن کے ذریعے ہوا، پانی، زمین اور اس کے اطراف میں آلودگیوں میں کمی کے ذریعے ماحول کےفطری توازن کو برقرار رکھا جاسکے۔ لوگوں میں اس بات سے آگاہی پیدا کی جائے کہ اس زمین اور اس کے اطراف میں موجود وسائل ہمارے لیے قدرت کا بیش بہا عطیہ ہیں اور ان پر تمام مخلوقات کا حق ہے اور ان وسائل کی حفاظت سب کا فرض ہے۔ ہمیں ان وسائل کے استعمال میں انتہائی ااحتیاط برتنے کی ضرورت ہے خاص طور پر ان چیزوں کے استعمال میں جن سے ماحول کی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس وقت اس کرہ ارض کو ماحولیاتی آلودگی سے بے پناہ خطرات لاحق ہیں۔اس کی حفاظت کے لیے جہاں ہمیں انفرادی سطح پر صحتمند رویہ اپنانے کی ضرورت ہےوہیں اجتماعی سوچ کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔


Author Avatar

About Author

Loremipsumdolorsitamet,consecteturadipisicingelit,seddoeiusmodtemporincididuntutlaboreetdoloremagnaaliquatenimadminimveniam.Eascxcepteursintoccaecatcupidatatnonproident,suntinculpaquiofficiadeserunt.

Add Comments