Vaccination – Parent’s Guide | ویکسینیشن – والدین کی رہنمائی کا کتابچہ

  1. Homepage
  2. Diseases & Conditions
  3. Vaccination - Parent's Guide | ویکسینیشن – والدین کی رہنمائی کا کتابچہ

ویکسینیشن – والدین کی رہنمائی کا کتابچہ


ویکسینیشن کو صحت کی دیکھ بھال کی سب سے زیادہ مؤثر دریافت تصور کیا جاتا ہے جس سے لاکھوں بچوں کی زندگیاں بچائی جا چکی ہیں۔

متعدی بیماریاں کیا ہوتی ہیں؟

متعدی بیماری وہ بیماریاں ہیں جو جراثیم کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ جراثیم حجم میں بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور ان کو ایک خوردبین کے بغیر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ مختلف اقسام کے ہو سکتے ہیں۔ ان میں بیکٹیریا، وائرس، فنگی اور پروٹوزوا (protozoa) شامل ہیں۔

جراثیم جسم میں مختلف ذرائع سے داخل ہو سکتے ہیں مثلا کچھ جراثیم ہوا کے زریعے کھانسی یا چھینک کی بوندوں یا بخارات سے ایک متاثرہ شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتے ہیں جیسا کہ تپ دق، چکن پوکس یا چیچک وغیرہ۔ یا کچھ جراثیم آلودہ خوراک اور آلودہ پانی کے استعمال سے جیسا کہ ٹائیفائیڈ بخار، ہیپاٹائٹس اے وغیرہ۔ اور کچھ خون کی منتقلی یا جسم کی دوسری رطوبتوں سے جیسا کہ ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی وغیرہ۔ اور کچھ جراثیم حشرات الارض کے کاٹنے کی وجہ سے جیسا کہ ملیریا، ڈینگی (مچھر کے کاٹنے سے)۔ اور جانوروں کے کاٹنے سے جیسا کہ ریبیز (Rabies) (کتے اور بلی کے کاٹنے سے)۔

ویکسین ان متعدی بیماریوں سے ہماری حفاظت کرتی ہیں۔ چھوٹے بچوں میں متعدی بیماریوں کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے اس لئے اکثر ویکسینز بچوں کی پیدائش کے بعد پہلے یا دوسرے سال میں دی جاتی ہیں تاکہ بچوں کو متعدی بیماریوں سے بچایا جا سکے۔

ویکسینز کیا ہیں؟

ویکسین ادویات کی ایک ایسی قسم ہے جسے متعدی امراض سے بچاؤ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

سادہ الفاظ میں، ویکسین میں ان ہی بیماریوں کے جراثیم ہوتے ہیں جن کی وجہ سے انفیکشن ہوتی ہے۔ تا ہم، ویکسین میں استعمال کیے گئے جراثیم کو یا تو مار دیا جاتا ہے یا کمزور کر دیا جاتا ہے تا کہ وہ بیماری کا باعث نہ بن سکیں۔ جیسا کہ پولیو ویکسین پولیو کے کمزور وائرس پر مشتمل ہوتی ہے۔ بہت سی جدید ویکسینز میں جراثیم کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہوتا ہے، جیسا کہ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین میں صرف وہ پروٹین ہوتی ہے جو کہ ہیپاٹائٹس بی وائرس کی سطح میں پائی جاتی ہے۔

ویکسینیشن کے نتیجے میں مدافعتی نظام اس جراثیم کے خلاف اینٹی باڈیز (Antibodies) پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر خسرہ ویکسین اور پولیو ویکسین ان بیماریوں کے خلاف اینٹی باڈیز کو متحرک کرتی ہیں۔ مستقبل میں ان بیماریوں کے جراثیم سے سامنا ہونے کی صورت میں یہ مخصوص اینٹی باڈیز ہمیں ان مخصوص جراثیم سے متاثر ہونے سے بچاتی ہیں۔

کیا ویکسینز ضمنی اثرات یا منفی رد عمل(Side effects) کا سبب بن سکتی ہیں؟

دیگر تمام ادویات کی طرح ویکسینز بھی کچھ ضمنی اثرات کا سبب بن سکتی ہیں۔ تاہم ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ ویکسین لگانے کے بعد 30 منٹ کے لئے کلینک یا ہسپتال میں ہی رہنا چاہیے تا کہ ضمنی اثرات یا الرجک رد عمل کی صورت میں طبی امداد کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ویکسین کے ضمنی اثرات عام طور پر خطرناک نہیں ہوتے اور جلد ختم ہو جاتے ہیں۔

ویکسینیشن سے مندرجہ ذیل بیماریوں پر مؤثر طریقے سے قابو پایا جا رہا ہے۔

Source: Centers for Disease Control and Prevention (CDC), USA

ٹی بی (Tuberculosis)

ٹی بی مائکوبیکٹیریم ٹیوبرکیلوسس (Mycobacterium tuberculosis) نامی ایک جراثیم کی وجہ سے ہوتی ہے۔
ٹی بی کے جراثیم عموماً پھیپھڑوں میں انفیکشن کا سبب بنتے ہیں، تاہم یہ دماغ، ہڈیوں، گردوں اور جسم کے دیگر حصوں میں بھی انفیکشن پیدا کر سکتے ہیں۔ ٹی بی ایک بہت ہی متعدی مرض ہے۔ یہ صحت مند افراد میں متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھینک کی بوندوں یا بخارات کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے ۔ پھیپھڑوں کی ٹی بی کی علامات میں مسلسل کھانسی کے ساتھ خون کا اخراج ، تھکاوٹ، سینے میں درد اور وزن میں کمی
شامل ہو سکتی ہیں۔
ٹی بی کی بیماری کی کچھ اقسام کو BCG ویکسین سے روکا جا سکتا ہے (دیکھیے ویکسینیشن شیڈول Vaccination Schedule )

ہیپاٹائٹس بی (Hepatitis B)

ہیپاٹائٹس بی جسے یرقان بھی کہتے ہیں ایک وائرل انفیکشن ہے جو جگر میں سوزش کا سبب بنتی ہے۔

ہیپاٹائٹس بی کی انفیکشن دو قسم کی ہو سکتی ہیں:

شدید (Acute) (مختصر مدتی) - یہ مختصر وقت کیلئے ایک مختصر مدت (چند ہفتوں سے دو ماہ تک) کے لئے جگر کی سوزش کا سبب بنتی ہے۔ مریض کا جسم اس بیماری کے خلاف کامیابی سے لڑتا ہے اور کسی قسم کی طویل پیچیدگی کے بغیر مکمل طور پر صحتیاب ہو جاتا ہے۔ ایکیوٹ انفیکشن اکثر اس وقت ہوتی ہے جب وائرس بالغ یا بڑی عمر کے افراد کے جسم میں داخل ہوتا ہے۔

دائمی (Chronic)(طویل مدتی) - اس قسم میں، مریض کا جسم مکمل طور بیماری سے لڑنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ اس قسم میں، عام طور پر بیماری کا وائرس عمر کے ابتدائی مرحلے (5 سال سے کم کی عمر میں) مریض کے جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔ تقریباً 90% بچے جو دائمی ہیپاٹائٹس کا شکار ہو جاتے ہیں ان کو یہ بیماری اپنی ہیپاٹائٹس بی سے متاثر شدہ ماؤں سے لگتی ہے ۔ اکثر مریض یرقان کی بیماری کا شکار ہونے کے بعد بقیہ زندگی کیلئے صحتیاب ہو جاتے ہیں، لیکن بیماری کا وائرس تمام زندگی ان کے جسم میں موجود رہتا ہے۔ البتہ تقریباً 5-10% میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں جو کہ جگر کے ناکارہ ہونے، سروسس (cirrhosis) اور کینسر کا باعث بن سکتی ہیں۔

ہیپاٹائٹس بی کو ویکسینیشن سے مؤثر طریقے سے روکا جا سکتا ہے (دیکھیے ویکسینیشن شیڈول Vaccination Schedule )

نمونیا کی بیماری (Pneumonia)

Source: Centers for Disease Control and Prevention, USA

نمونیا ایک متعدی بیماری ہے جو تمام عمر کے لوگوں کے پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ عام طور پر یہ بیماری بیکٹیریا اور وائرس کی چند اقسام کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

نمونیا عام طور پر مندرجہ ذیل جراثیم کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

بیکٹیریل نمونیا

۔ اسٹرپٹوکوکس نمونیا (Streptococcus pneumoniae) -
۔ ہیموفیلس انفلوئنزا ٹائپ بی (Hib) -
۔ کالی کھانسی (Bordetella Pertussis) -

وائرل نمونیا

۔ خسرہ وائرس
۔ ویریسیلا زوسٹر وائرس یا چکن پوکس (Varicella zoster virus, chicken pox) -
۔ فلو (Influenza virus) -

خوش قسمتی سے، بچوں اور بالغ افراد کو اوپر ذکر کی گئی وجوہات کی وجہ سے ہونے والے نمونیا سے بچانے کیلئے بہت ہی مؤثر اور محفوظ ویکسین دستیاب ہیں۔ (ویکسینیشن شیڈول Vaccination Schedule ملاحظہ کریں)

پولیو وائرس (Polio)

پولیو - وائرس کی وجہ سے ہونے والی ایک متعدی بیماری ہے۔ پولیو کا وائرس خطرناک بیماری کا سبب بن سکتا ہے جس کی وجہ سے موت یا عمر بھر کی معزوری لاحق ہو سکتی ہے۔

یہ وائرس آلودہ خوراک یا پانی سے جسم میں داخل ہوتا ہے۔

پولیو ویکسین کی مدد سے پوری دنیا سے اس بیماری کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، سوائے پاکستان، افغانستان اور نائجیریا کے۔

بچوں کو پولیو کی ویکسین دینا اس بیماری سے بچنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو پولیو کی تجویز کردہ ویکسین ضرور پلائیں۔ (ویکسینیشن شیڈول Vaccination Schedule ملاحظہ کریں)

گردن توڑ بخار یا میننجائٹس (Meningitis)

گردن توڑ بخار یا مینینجائٹس کی بیماری میں دماغ اور سپائنل کورڈ (Spinal cord) ، کے گرد جھلّی جسے میننجیس (Meninges) کہا جاتا ہے، میں سوزش یا سوجن پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ عام طور پر وائرل یا بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔

عام طور پر بیکٹیرئل مینینجائٹس وائرل مینینجائٹس سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔ مینینجائٹس کی وجہ کا تعین کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ لیکن ابتدائی مرحلے میں اس کی وجہ کی شناخت کرنا مشکل ہوتا ہے۔

انفیکشن پر قابو پانے کیلئے فوری طبی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ موت یا مستقل معذوری سے بچا جا سکے، خاص طور پر بچوں اور بوڑھوں میں۔

گردن توڑ بخار کی اہم وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔

بیکٹیریل میننجائٹس

۔ سٹرپٹوکوکس نمونیائی (Streptococcus pneumoniae) -
۔ ہیموفیلس انفلوئنزا ٹائپ بی (Haemophilus Influenzae type B, HiB) -
۔ نیسیریا میننجائٹس (Neisseria meningitides) -
۔ گروپ بی سٹرپٹوکوکی (Group B Streptococci) زیادہ تر بچوں کو متاثر کرتا ہے -
۔ لیسٹیریا مونوسائٹوجنز (Listeria monocytogens) -

وائرل میننجائٹس

۔ خسرہ وائرس
۔ ممپس (Mumps) وائرس -
۔ واریسیلا زوسٹر وائرس (Varicella zoster virus) (Chicken pox) وائرس -
۔ انفلوئنزا (فلو) وائرس

امیوبک میننجائٹس (Ameobic meningitis)

۔ نیگلیریا فولری (Naegleria fowleri) -

گردن توڑ بخار کی کئی اقسام کو ویکسینیشن سے روکا جا سکتا ہے (ویکسینیشن شیڈولVaccination Schedule ملاحظہ کریں)۔

خناق (Diphtheria)

Corynebacterium diphtheriae colonies – Source: Centers for Disease Control and Prevention, USA

خناق ایک سنگین انفیکشن ہے جو کہ (Corynebacterium diphtheria) نامی جراثیم کی وجہ سے ہوتی ہے۔
عام طور پر یہ حلق اور ناک کو متاثر کرتی ہے اور گلے کی سوزش اور تیز بخار کا سبب بنتی ہے اور مناسب فوری طور پر علاج نہ ملنے کی صورت میں شدید نقصان یا موت کا باعث بن سکتی ہے۔

خناق دل، گردوں اور اعصاب کو بھی شدید طور پر متاثر کر سکتا ہے۔

خناق کی بیماری دنیا بھر میں بہت عام تھی۔ تاہم دنیا بھر میں خناق کی ویکسینیشن کے نتیجے میں اس کے مریضوں کی تعداد میں عالمی سطح پر نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ پاکستان میں اب بھی ہر سال خناق چند ہزار لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ خناق ویکسینیشن کو زیادہ عام کرنے سے ان میں سے اکثر واقعات سے آسانی سے بچا جا سکتا ہے۔

خناق ویکسین کو بچپن کے ویکسینیشن پروگرام کے حصے کے طور پر دیا جانا چاہیے۔ (ویکسینیشن شیڈول Vaccination Schedule ملاحظہ کریں)

تشنج (Tetanus)

تشنج (Clostridium tetani) نامی جراثیم کی وجہ سے ہوتی ہے۔
تشنج ایک بہت سنگین بیماری ہے۔ 25 فیصد سے زائد تشنج کے مریض زندگی بھر کی معذوری یا موت سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔
اس کا جراثیم اصل میں ہر جگہ موجود ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر مٹی اور فضلہ میں۔ یہ جلد پر لگنے والی چوٹ یا کھلے زخم کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔

بالغوں کو کھلے زخم یا چوٹ کی صورت میں ٹیٹنس کا انجکشن (tetanus antitoxin) لگانا چاہیے۔

تشنج کو ایک بہت مؤثر ویکسین سے روکا جا سکتا ہے (ویکسینیشن شیڈول Vaccination Schedule ملاحظہ کریں)۔

کالی کھانسی (Pertussis)

کالی کھانسی ایک سانس کی بیماری ہے جو کہ (Bordetella pertussis) نامی ایک جراثیم کی وجہ سے ہوتی ہے۔
کالی کھانسی ایک بہت سنگین انفیکشن ہے اور اس کی وجہ سے سانس لینے میں شدید دشواری اور نہ رکنے والی کھانسی کی شکایت ہوتی ہے۔ اس کی علامات بچوں میں زیادہ شدید ہوتی ہیں۔

(Pertussis) ویکسین کالی کھانسی سے بچوں کی حفاظت کرتی ہے۔ (ویکسینیشن شیڈول Vaccination Schedule ملاحظہ کریں)

خسرہ (Measles)

Measles Rash - Source: Centers for Disease Control and Prevention, USA

خسرہ Measles ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو کہ خسرہ وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔
اس کا وائرس متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھینک کی بوندوں بخارات
کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔ اس کا وائرس ایک متاثرہ شخص سے صحت مند شخص کے ساتھ رابطے کی صورت میں اس کے جسم میں داخل ہوتا ہے۔

خسرہ کی بیماری سنگین اور جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر چھوٹے بچوں میں۔ خسرے کے انفیکشن کا شکار ہونے والے تقریباً 30 فیصد لوگ دوسری پیچیدگیوں جیسے نمونیا، کان کی انفیکشن، گردن توڑ بخار اور اسہال کا شکار ہو جاتے ہیں۔
خسرہ کی انفیکشن بہت عام ہوا کرتی تھی۔ تاہم MMR ویکسین کے استعمال میں اضافہ کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک میں اس بیماری میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے (ویکسینیشن شیڈول Vaccination Schedule ملاحظہ کریں)

ممپس (Mumps)

ممپس ایک متعدی بیماری ہے جو کہ ممپس وائرس کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ ممپس متاثرہ شخص کی چھینک اور کھانسی سے صحتمند افراد (جنہوں نے ممپس کی ویکسینیشن نہ کروائی ہو اور ان کو ممپس کی بیماری بھی کبھی لاحق نہ ہوئی ہو) میں انتہائی تیزی سے منتقل ہوتی ہے۔
مریض عام طور پر بخار، تھکاوٹ اور کپکپی، سالیویری (Salivary) غدود میں سوجن (جبڑے) کے ساتھ (ایک طرف یا دونوں طرف) سے متاثر ہوتا ہے۔

ممپس سے MMR ویکسین کی مدد سے آسانی سے بچا جا سکتا ہے۔ (ویکسینیشن شیڈول Vaccination Schedule ملاحظہ کریں)۔

(Rubella) روبیلا

روبیلا روبیلا وائرس کی وجہ سے پھیلنے والی وائرل بیماری ہے۔ اسے جرمن خسرہ (German measles) بھی کہا جاتا ہے۔
یہ گلے کی ہلکی سوزش، جلد کی خراش اور بخار کا باعث بنتی ہے۔ یہ بیماری ویکسین نہ لگوانے والی حاملہ خواتین میں پیدائش کے نقائص اور اسقاط حمل کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لئے اس ویکسین کو لگوانا ضروری ہوتا ہے۔

روبیلا ویکسین MMR کے ٹیکے میں شامل ہوتی ہے - ویکسینیشن شیڈول Vaccination Schedule ملاحضہ کریں۔

چھوٹی چیچک (Chicken pox)

Source: Centers for Disease Control and Prevention, USA

چھوٹی چیچک واریسیلا زوسٹر وائرس (VZV) کی وجہ سے ہونے والی ایک متعدی بیماری ہے۔

یہ بچپن میں ہونے والی ایک عام انفیکشن ہے جو عام طور پر 10 سال سے کم عمر کے بچوں میں ہوتی ہے۔ یہ تقریبا ہر کسی کو ہی بچپن میں ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگ جنہوں نے اس کی ویکسین نہ لگوائی ہو اور جن کو بچپن میں بھی یہ بیماری نہ ہوئی ہو وہ کسی بھی عمر میں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اس میں کھجلی والے زخم پیدا ہوتے ہیں جو پتلے پیپ سے بھرے چھالوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور بالآخر خشک چھلکے بن کر جھڑ جاتے ہیں۔ اگر چھالے بیکٹیریا سے متاثر ہو جائیں تو پیچیدگیوں کا بھی امکان ہوتا ہے۔

چھوٹی چیچک کی ویکسینیشن انفیکشن کی روک تھام کے لئے محفوظ اور مؤثر طریقہ ہے (ویکسینیشن شیڈول Vaccination Schedule ملاحظہ کریں)

Author Avatar

About Author

Loremipsumdolorsitamet,consecteturadipisicingelit,seddoeiusmodtemporincididuntutlaboreetdoloremagnaaliquatenimadminimveniam.Eascxcepteursintoccaecatcupidatatnonproident,suntinculpaquiofficiadeserunt.

1 Comment

  • Syed Imran

    Reply
    Posted on Nov 07, 2016 at 08:07 am

    Dear Webmaster,

    Thanks for your prompt response, recvd: vaccination schedule/chart on my email address.

Add Comments