Measles Infection | خسرہ

  1. Homepage
  2. Diseases & Conditions
  3. Measles Infection | خسرہ

خسرہ


خسرہ ایک متعدی مرض ہےجو کہ خسرہ کے جرثومہ یا وائرس کے لگنے سے ہوتی ہے۔ متاثرہ فرد کے کھانسنےیا چھینکنے سے رطوبت کے قطروں کے فضاٗمیں پھیلنے سے خسرہ کا وائرس بیمار انسان سے صحت مند انسان کے جسم میں منتقل ہو جاتا ہے۔

Measles virus - Source: Centers for Disease Control and Prevention, US
Measles virus - Source: Centers for Disease Control and Prevention, US

خسرہ کے وائرس کا تعلق پیرامیکسوائرائڈی خاندان سے ہے۔ خسرے کو چھوٹی چیچک Rubeola بھی کہتے ہیں۔
خسرہ جرمن خسرہ Rubella اور چیچک سے مختلف ہوتا ہے۔

عام طور پر خسرہ پانچ سا ل سے کم عمر کے بچوں کو ہوتا ہے لیکن کوئی بھی شخص جس کو خسرے کی ویکسین یا ایم ایم آر ویکسین نہیں لگی خسرہ سے متاثر ہوسکتا ہے۔ایک دفعہ خسرہ ہونے سے متاثرہ افراد میں عمر بھر کے لیے اس بیماری کے خلاف مدافعت پیدا ہو جاتی ہےاور ان کو خسرہ کی بیماری دوبارہ نہیں ہوتی۔

خسرہ کی علامات کسی فرد کے متاثرہ فرد سے ملنے کے دس دن میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ خسرہ کا وائرس متاثرہ افراد خصوصا بچوں کی جان کے لیے خطرنا ک ہو سکتا ہے۔ خسرہ سے متاثر ۳۰ فیصد افراد میں نمونیہ، کانوں میں انفیکشن، گردن توڑ بخار اور ہیضہ ہو سکتا ہے۔

خسرہ کی بیماری پہلے بہت عام تھی تاہم ایم ایم آر ویکسین کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک میں خسرہ کے واقعات بہت کم رہ گئے ہیں۔ ایم ایم آر ویکسین خسرے کے خلاف بہت کارآمد ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں یہ بیماری اب بھی بہت عام ہے۔ عا لمی ادارہ صحت کے مطابق خسرہ بچوں میں اموات کی اب بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس ادارہ کے اعدادوشمار کے مطابق پوری دنیا میں خسرہ سے ایک دن میں 314 اموات اور ایک گھنٹے میں 13 اموات ہو رہی ہیں۔

خسرہ کی علامات وائرس لگنے کے دس سے چودہ دن میں متاثرہ افراد میں ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ چند عام علامات یہ ہیں:

Measles Rash - Source: US, Centers for Disease Control and Prevention
Measles Rash - Source: US, Centers for Disease Control and Prevention


 نا ک کا بہنا یا بند ہو جانا 

کھانسی 

تیز بخار 

سرخ آنکھیں (پانی زدہ آنکھیں)

گلا خراب ہونا

پٹھوں میں درد اور تھکاوٹ

بھوک نہ لگنا

منہ اور گلے میں سفید رنگ جیسے دانے ہونا

ان علامات کے ظاہر ہونے کے بعد جسم پر لال بھورے رنگ کے دھبے نمودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ کان کے پیچھے سے شروع ہو کر، گردن اور سر سے لیکر پورے جسم پر پھیل جاتے ہیں۔ یہ دھبے دوسری علامات کے بعد تین سے چار دن میں شروع ہوتے ہیں اور ایک ہفتےتک رہ سکتے ہیں۔ شروع میں یہ چھوٹے ہوتے ہیں لیکن بعد میں بڑے ہو جاتے ہیں یہان تک کہ ایک دوسرے کی حد پہنچ جا تے ہیں۔

خسرہ کا وائرس متاثرہ افراد خصوصا بچوں کی جان کے لیے خطرنا ک ہو سکتا ہے۔  خسرے سے متاثر 30 فیصد افراد میں نمونیہ، کانوں میں انفیکشن، کھانسی، دماغ کی سوزش اور ہیضہ ہو سکتا ہے۔

بہت کم واقعات (ہزار میں سے ایک) میں خسرہ کی وجہ سے دماغ کی سوزش کی بیماری انسیفلائٹس ہو جاتی ہے۔ اس سے دماغ میں سوزش ہو جا تی ہے اور مریض کو متلی، دوروں کی بیماری اور کومہ یا بہوشی کا مرض ہو سکتا ہے اور وہ مر سکتا ہے۔ دماغ کی سوزش سے مریض کی قوت سماعت ختم ہو سکتی ہے، وہ ذہنی طور پر مفلوج ہو سکتا ہے یا اسکو کوئی دوسری لمبی عمر کے لیے معذوری ہو سکتی ہے۔

خسرہ کی بیماری جرثومہ یا وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔

cough - flu-1679104_640

متاثرہ فرد کے کھانسنےیا چھینکنے سے رطوبت کے قطروں کے فضاٗ میں پھیلنے سے خسرہ کا وائرس بیمار انسان سے صحت مند انسان کے جسم میں منتقل ہو جا تا ہے۔ اسکے علاوہ متاثرہ افراد کے برتن استعمال کرنے، اس کے ہاتھ کو چھونے یا ان جگہوں کو چھونے، جن پرمتاثرہ افراد کے نا ک اورمنہ کی رطوبت کے قطرے گرےہوں، سے خسرہ ہو سکتاہے۔ خسرہ کا وائرس ناک اور گلے میں بڑھنے کے بعد پھیپھڑوں اور پورے جسم میں پھیل جاتا ہے۔

خسرہ کا مریض ابتدائی علامات کے ظاہر ہونے سےلے کر جسم پر دھبے نمودارہونے کے چار دن کے بعد تک متاثر رہتا ہے۔

خسرہ ہونے کے مندرجہ ذیل خطرات ہو سکتے ہیں:

۱۔ایسا فرد جسکو ایم ایم آر ویکسین نہ لگی ہو۔

۲۔ ان ممالک کا سفر کرنا جن میں خسرے کا وائرس عا م ہے۔

۳۔ ایسے افراد جن کو وٹامن ای کی کمی ہے۔

خسرہ کی تشخیص عام طور پر اس کی ظاہری علامات اور کلینیکل ناشانیوں سے ہو جاتی ہے۔

جسم پر منفرد دھبے اورمنہ اور گلے میں خاکی سفید نما دانے (کوپلک دانے) خسرہ کی خصوصی علامات ہیں۔

اگر ضرورت پڑے تو ڈاکٹر خون کا ٹیسٹ لینے کو کہہ سکتاہے۔

 

خسرہ اکثر خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ خسرہ کے وائرس کا اپنا دورانیہ ہے اور اکثر واقعات میں مریض سات سے دس دن میں بہتر محسوس کرنا شروع کردیتے ہیں۔

خسرہ کے وائرس کا علاج کرنے کے لیے کوئی خاص دوا موجود نہیں ہے۔ دوسرے انفیکشنز کی طرح خسرہ کے انفیکشن کا بھی علاماتی امدادی علاج ہوتا ہے۔ مثال کے طور مریض کو عام بخارختم کرنے والی دوا (پیراسیٹامول) اور درد کم کرنے والی دوا( انالجیسکس) دی جاتی ہیں۔ چونکہ خسرہ ایک وائرل بیماری ہے اور اس پر اینٹی بائیوٹکس کارآمد نہیں ہوتیں اس لیے مریض کو اینٹی بائیوٹکس نہیں دی جاتیں۔ اگر مریض میں بیکٹیریا کی علامات موجود ہوں تو اس صورت میں علاج کے لیے اینٹی بائیوٹکس دی جا سکتی ہیں۔

اگر مریض کی آنکھیں خراب ہوں تو ان کو کاٹن کے گیلے کپڑے سے صاف کرنے سے فرق پڑتا ہے۔ خسرہ کے وہ مریض جن کی حالت ذیادہ خراب ہو یا وہ ہسپتال میں داخل ہوں تو ان کو وٹامن اے دیا جانا ضروری ہے۔

مریض کو مشروبات (پانی اور شربت) کا بہت ذیادہ استعمال کرنا چائیے تاکہ پانی کی کمی سے بچا جا سکے۔ پانی اور دوسرے مشروبات کے استعمال سے بخار کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

خسرہ، ممپس اور چیچک ویکسین خسرہ کے اینفکشن سے بچنے کا بہتریں حل ہے۔ ایم ایم آر ویکسین عام طور پر بچوں کو ۱۲ ماہ کی عمر میں دے جاتی ہے۔ با لغ افراد اور بڑے بچےیہ ویکسین لے سکتے ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کو خسرہ ہونے کا خدشہ ہے۔

متاثرہ فرد کو دوسروں سے الگ رکھ کر خسرہ کےوائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ مریض کو چاہیے کہ گھر پر رہے اور آرام کرے۔

اسکول یا کام پر نہ جائے، سماجی میل جول ترک کردے تاکہ اس سے خسرہ کا وائرس صحت مند افراد کو نہ لگے۔ یہاں یہ بات بھی ضروری ہے کہ وہ افراد جو مریض کی دیکھ بھال پر معمور ہیں ان کا میل جول دوسرے لوگوں سے کم ہو اور ان کو ایم ایم آر ویکسین پہلے سے دی گئی ہو تا کہ ان کو خسرہ ہونے کا خطرہ نہ ہو۔

خسرے کے مریض کو ان افراد کے جن کی قوت مدافعت کمزور ہونے سے بیماری کا خدشہ ہو قریب نہیں آنا چائیے۔ جیسا کہ ایک سال کا بچہ یا کینسر کا مریض جو کہ کیمیوتھراپی کی ادوایات لے رہا ہو۔

حاملہ عورت کو بھی خسرہ کے مریض سے بچنا چائیے۔ اگر مریض کو سانس لینے میں دشواری پیش آئے یا سینے میں درد ہو تو اس کو فورا ہسپتال لے جانا چائے۔

حفاظتی ٹیکوں کا شیڈول دیکھیے۔ Vaccination Schedule

Author Avatar

About Author

Loremipsumdolorsitamet,consecteturadipisicingelit,seddoeiusmodtemporincididuntutlaboreetdoloremagnaaliquatenimadminimveniam.Eascxcepteursintoccaecatcupidatatnonproident,suntinculpaquiofficiadeserunt.

Add Comments