Hepatitis C | ہیپاٹائٹس سی

  1. Homepage
  2. Diseases & Conditions
  3. Hepatitis C | ہیپاٹائٹس سی

ہیپاٹائٹس سی


ہیپاٹائٹس (جگر کی سوزش) کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ یہ سب سے زیادہ وائرل انفیکشن (Viral Infection) کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ زہر، شراب، آٹو امیون (Autoimmune) بیماریوں اور کچھ دواؤں کے استعمال سے بھی جگر کی سوزش ہو سکتی ہے۔

جگر کی سوزش یا سوجن وائرس کے جگر کے ریشوں (Tissues) کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے ہوتی ہے۔

ہیپاٹائٹس وائرس کئی قسم کے ہیں۔ ان میں ہیپاٹائٹس اے، ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی، اور ہیپاٹائٹس ای شامل ہیں۔

یہ کتابچہ ہیپاٹائٹس سی وائرس (HCV) سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔

جگر ہمارے جسم کا سب سے بڑا عضو ہے۔ جگر کئی بہت اہم کام سر انجام دیتا ہے جیسا کہ کھانا ہضم کرنا، خوراک ذخیرہ کرنا اور زہریلے مادوں کو جسم سے نکالنا۔

HVC انفیکشن جگر میں سوزش کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر اس کا مناسب طریقے سے اور بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ کئی سالوں کے دورانیہ میں جگر کو ممکنہ طور پر خطرناک اور شدید نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے۔

ایک حالیہ اشاعت کے مطابق پاکستان میں HCV کے 9-8 ملین (80 سے 90 لاکھ) مریض ہیں جو کہ آبادی کا تقریباً 4.9 فیصد بنتے ہیں۔

ہیپاٹائٹس بی کی طرحHCV انفیکشن دو قسم کی ہو سکتی ہیں:

شدید (مختصر مدت) انفیکشن – یہ اس وقت ہوتی ہے جب HCV پہلے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ یہ جگر کے ریشوں میں سوزش کا سبب بنتی ہے۔ شدید HCV کے کچھ مریض (تقریباً 40%-20% ) اس مرض پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ان کے جسم سے یہ وائرس مکمل طور پر نکل جاتا ہے۔ یہ مریض تقریباً 6 ماہ کے عرصہ میں مکمل طور پر صحتیاب ہو جاتے ہیں اور ان کو کسی طویل مدتی پیچیدگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ تاہم شدید HCV کے اکثر مریض (تقریباً 80%-60%) دائمی (طویل مدتی) HCV کا شکار ہو جاتے ہیں۔

 

۔ دائمی (طویل مدتی) انفیکشن – یہ عام طور پر ایک خاموش بیماری ہوتی ہے یعنی اکثر مریضوں کو کئی دہائیوں تک کسی قسم کی علامات ظاہر

نہیں ہوتیں یہاں تک کہ ان کے جگر کو نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔ اس قسم میں مریض کا جسم بیماری پر مکمل طور پر قابو پانے کے قابل نہیں ہوتا۔ دائمی HCV کے اکثر مریضوں (تقریباً 80%-60%) کا جسم اس سے مکمل طور پر نجات حاصل نہیں کر پاتا اور وہ دائمی HCV کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دائمی مریضوں کے جسم میں یہ وائرس موجود رہتا ہے اور وہ اس کے حامل بن جاتے ہیں، یعنی وہ جنسی تعلقات اور خون کا عطیہ دینے سے وائرس دوسروں کو منتقل کر سکتے ہیں۔ اگر بروقت علاج کا آغاز نہ کیا جائے تو دائمی HCV کے مریض جگر کی شدید بیماریوں جیسا کہ سروسس (Cirrhosis) اور کینسر کا شکار ہو سکتے ہیں۔

۔ HCV انفیکشن سے بچنے کیلئے کوئی ویکسین (Vaccine) دستیاب نہیں۔

علاج میں حالیہ پیش رفت

حال ہی میں ہیپاٹائٹس سی انفیکشن کا علاج ممکن ہوا ہے۔

گولیوں کی شکل میں بہت سی نئی ادویات دستیاب ہیں جو کہ بہت مؤثر اور سستی ہیں جن کے کچھ ماہ (2 سے 6 ماہ) کے استعمال سے مریض کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

جگر کو اچھا خاصا نقصان پہنچ جانے سے پہلے ہیپاٹائٹس سی کوئی نمایاں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ بہت سے لوگ اس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور ان کو اس کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ ہیپاٹائٹس سی کی علامات کو غلطی سے دوسری بیماریوں کی علامات بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

دائمی HCV انفیکشن سے متاثرہ لوگوں میں سے صرف 25 فیصد میں انفیکشن کے پہلے 6 ماہ کے دوران کچھ علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ دائمی

انفیکشن سے متاثرہ لوگوں میں مندرجہ زیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

۔ تیز بخار کے ساتھ ساتھ پٹھوں اور جوڑوں میں درد (فلو کی طرح کی علامات)

۔ تھکاوٹ کا احساس

۔ جلد اور آنکھوں کی پتلیوں کا پیلا ہونا

۔ یرقان کی وجہ سے پیشاب کا رنگ گہرا ہونا

۔ متلی اور پیٹ میں درد

۔ بھوک میں کمی

HCV کی علامات بیماری لگنے کے بعد ایک سے تین ماہ میں ظاہر ہوتی ہیں اور 2 ہفتے سے 3 ماہ تک رہتی ہیں۔ HCV کے تقریباً 40%-20% مریض اس مرض پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ان کے جسم سے یہ وائرس مکمل طور پر نکل جاتا ہے۔ HCV کے

اکثر مریض (تقریباً 80%-60%) دائمی (طویل مدتی) HCV کا شکار ہو جاتے ہیں اور وائرس ان کے جسم میں موجود رہتا ہے۔

دائمی HCV انفیکشن میں اینٹی وائرل تھراپی (Antiviral Therapy) کارگر ثابت ہوتی ہے۔

دائمی(طویل مدتی) HCV انفیکشن کی علامات میں شامل ہیں۔

۔ پٹھوں اور جوڑوں میں درد

۔ تھکاوٹ کا احساس

۔ خراش لگنے سے خون کادیر تک بہتے رہنا

۔ جلد پر کھجلی

۔ وزن میں کمی

۔ آواز کا بیٹھنا، غنودگی اور الجھن

عام طور پر HCV متاثرہ خون سے پھیلتی ہے۔ یہ انفیکشن مختلف طریقوں سے پھیل سکتی ہے۔ کچھ مندرجہ زیل ہیں۔

۔ ہیپاٹائٹس سی سے متاثرہ ماں سے پیدا ہونے والے بچے کو

۔ ہیپاٹائٹس سی سے متاثرہ خون لگانے سے

۔ سوئیوں اور سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے (جب ضرورت ہو تو نئی سرنج کے لئے کہیں)

۔ متاثرہ شخص کے ساتھ جنسی تعلق سے (تولیدی رطوبتوں کے ساتھ رابطے سے)

۔ متاثرہ شحص کی ذاتی اشیاء کے استعمال سے مثلاً استرا، ناخن تراش، دانت صاف کرنے کا برش۔ (حجامت کراتے وقت ہمیشہ نیا بلیڈ استعمال کرنے پر اصرار کریں)

۔ صحت کی دیکھ بھال کے پیشہ ور افراد (ڈاکٹروں، نرسوں، لیب کے عملے) کو حادثاتی طور پر متاثرہ شخص کے خون سے آلودہ سوئی کے چبھنے سے

۔ کان اور ناک چھیدنے کے دوران آلودہ سوئیوں کے استعمال سے

۔ منشیات کے عادی افراد کا ایک دوسرے کے انجکشن استعمال کرنے سے۔ ایک سروے کے مطابق منشیات کے عادی افراد کی تقریبا ایک تہائی HCV سے متاثر ہیں۔

۔ اگر آلات کو جراثیم سے پاک نہ کیا جائے تو کچھ بڑے عمل جیسا کہ دانتوں کے کچھ کام اور اینڈوسکوپی (Endoscopy) بھی HCV کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔

دانتوں کے کام کیلئے ہمیشہ قابل اعتماد کلینکس کا انتخاب کریں۔

ڈاکٹر عام طور پر مریض کا پس منظر، طبی حالت اور علامات کی جانچ کرنے کے لئے بہت سے سوال پوچھتے ہیں۔

اس کے علاوہ جگر کی حالت اور خون میں HCV کی موجودگی کا تعین کرنے کیلئے خون کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ جگر کے خامروں کی سطح ماپنے کیلئے جگر کی فعالیت کا ٹیسٹ (LFT) علاج سے پہلے اور علاج کے دوران کیا جاتا ہے۔

اگر ہیپاٹائٹس سی وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ ایسے لوگ جن کی پہلے کوئی سرجری یا دانتوں کا کام ہوا ہو، یا جن کے شریک حیات کا HCVمثبت ہو ، ان کو HCV ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

HCV انفیکشن کا پتہ لگانے کیلئے خون کے مختلف ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ ان میں شامل ہیں۔

۔ HCV وائرس کی موجودگی یا عدم موجودگی کا پتہ لگانے والے ٹیسٹ

۔ خون میں وائرس کی مقدار جاننے کا ٹیسٹ (HCV Titer)

۔ HCV وائرس کی ذیلی قسم کا پتہ لگانے والا ٹیسٹ

۔ اینٹی HCV کا ٹیسٹ (Antibody to HCV)

۔ ڈاکٹر الٹراساؤنڈ، ایکسرے یا جگر کی حالت کو جانچنے کیلئے بائوپسی (Biopsy) ٹیسٹ کا مشورہ دے سکتا ہے

بیماری کا جلد پتہ لگنے سے اس سے بچاؤ اور علاج میں مدد ملتی ہے۔ اس سے جگر کو ہونے والے نقصان کی روک تھام اور بیماری کو دوسروں تک پھیلنے سے روکنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

فی الحال HCV انفیکشن کو روکنے کے لئے کوئی ویکسین دستیاب نہیں ہے۔

عام طور پر HCV کے مریضوں کے علاج کے لئے مختلف ادویات کا ایک مجموعہ استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کے علاج کا انحصار مختلف عناصر پر ہے۔ ان میں شامل ہیں

انفیکشن کا مرحلہ (شدید یا دائمی)

وائرس کی قسم (جینوٹائپ)

وائرس کی تعداد (وائرل لوڈ)

مریض کی حالت

اس سے قبل کیے جانے والے علاج کا نتیجہ

جگر کی حالت

HCV علاج کا مقصد مستقل یا دیرپا وائرولوجیکل ریسپونس (Virological Response) حاصل کرنا ہوتا ہے یعنی خون سے وائرس کا خاتمہ۔
ابتدائی HCV علاج میں طویل مدتی ادویات شامل ہیں جو کہ ہفتہ وار انجیکشن کے طور پر دی جاتی ہیں۔

HCVکے علاج کے لیے نئی ادویات کو HCV کے مریضوں کے علاج میں بہت مؤثر پایا گیا ہے۔ ان ادویات نے علاج کے دورانیہ کو 1 سال سے کم کر کے 3 ماہ کر دیا ہے اور یہ گولیوں کی شکل میں دستیاب ہیں۔ ان ادویات میں (Sofosbuvir, Daclatasvir, Simeprevir) شامل ہیں۔

تقریبا 80 سے 90 فیصد لوگ ان نئی ادویات کے استعمال سے صحتیات ہو سکتے ہیں۔

HCV کے علاج کے لیے ادویات کی فہرست میں شامل ہیں

Interferons
Ribavirin
Boceprevir
Telaprevir
Simprevir (Olysio)
Sofosbuvir (Sovaldi)
Ledipasvir / sofosbuvir (Harvoni)
Ombitasvir / paritaprevir / ritonavir (Technivie)
Daclatasvir (Daklinza)

پاکستان میں Sovaldi

Sovaldi ہیپاٹائٹس سی وائرس کے خلاف استعمال ہونے والی نئی ادویات میں سے ایک ہے۔ یہ دوا 'سویرا' گولیاں کے برانڈ نام کے تحت تیار کی جائے گی اور اب پاکستان میں دستیاب ہوگی۔ یہ دوا 28 گولیوں کے پیک (Pack) میں 6000 پاکستانی روپوں سے کم کی مارکیٹ قیمت میں خریدی جا سکے گی۔ Sovaldi کو HCV کے مریضوں میں بہت مؤثر پایا گیا ہے۔

کیونکہ پاکستان میں HCV مریضوں کی بڑی تعداد موجود ہے، تخلیق کرنے والی کمپنی گلیڈ سائنسز (Gilead Sciences) ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ اس دوا کو مناسب قیمت پر فراہم کیا جا سکے اور HCV کے علاج میں بہتری لائی جا سکے۔
جگر کو زیادہ نقصان ہونے کی صورت میں، جگر کیپیوند کاری (Transplantation) کی بھی ضرورت ہوسکتی ہے۔

HCV انفیکشن تمباکو نوشی کی ماند ہے جسے اگر علاج کے بغیر چھوڑ دیا جائے تو نقصان اور پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں۔

ممکنہ پیچیدگیوں میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں

۔ جگر پر زخم کے نشان (Scarring or Cirrhosis) : ہیپاٹائٹس انفیکشن لگنے کے 30-20 سال بعد جگر پر زخم کے نشان بن سکتے ہیں جس سے اسے کام کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

۔ جگر کا کام چھوڑ جانا: اگر Cirrhosis میں بڑھوتری ہو تو اس کے نتیجہ میں جگر معمول کا کام کرنا چھوڑ سکتا ہے۔

۔ جگر کا کینسر: ہیپاٹائٹس سی ہونے سے کچھ لوگوں میں جگر کا کینسر بھی ہو سکتا ہے۔

 

Author Avatar

About Author

Loremipsumdolorsitamet,consecteturadipisicingelit,seddoeiusmodtemporincididuntutlaboreetdoloremagnaaliquatenimadminimveniam.Eascxcepteursintoccaecatcupidatatnonproident,suntinculpaquiofficiadeserunt.

3 Comments

  • Nandlal

    Reply
    Posted on Jan 29, 2019 at 08:25 am

    My Father is a patient of Hep C , His age is 60+, He checked up by many doctors but useless,Currently he pass blace stool and become very weak, if any useful treatment will be given to him,kindly advise

    • Yousuf Naqvi

      Reply
      Posted on Jan 29, 2019 at 17:35 pm

      Kindly read the Hepatitis C Treatment section. There are many new effective treatments available. As stated, treatment depends on many factors. It is very important to consult specialist doctor (either Infectious Disease or Gastroentrologist) at a reliable hospital. Best of luck and Get well soon. IA

  • Dr.Faisal dar

    Reply
    Posted on Jun 29, 2020 at 07:43 am

    This website is very important for all user hepatitis is very normal diseases that why all people know about this disease we have a special doctor for a liver transplant Dr.Faisal dar so visit and see latest information

Add Comments