Diphtheria | خناق

  1. Homepage
  2. Diseases & Conditions
  3. Diphtheria | خناق

خناق


خناق ایک متعدی بیماری ہے جو بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے

Blood agar culture with Corynebacterium diphtheriae colonies – source US CDC
Blood agar culture with Corynebacterium diphtheriae colonies – source US CDC

خناق ایک انفیکشن ہے اور یہ جان لیوا بھی ہوسکتا ہے اگرمناسب اور فوری علاج نہ شروع کیا جائے اور اسکی وجہ سے جسم کو شدید نقصان کا اندیشہ بھی ہوسکتا ہے۔

 عام طور پر یہ حلق اور ناک کو متاثر کرتی ہے۔اسکے باعث گلے میں خراش کے ساتھ تیز بخارہو سکتاہے۔ خناق شاذو نادرہی جلد کے انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔

خناق انتہائی متعدی مرض ہے ۔یہ ایک متاثرہ شخص سے دوسرے افراد کو جواسکے رابطے میں ہوں انہیں باآسانی منتقل ہوسکتا ہے۔اسکے جرثومے (بیکٹیریا) متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھینک کے ذریعے دوسرے لوگوں میں منتقل ہوسکتے ہیں۔  خناق نقصان زدہ جلدی رابطے سے بھی دوسروں میں منتقل ہوسکتا ہے۔

اسکے جراثیم حلق یا ناک میں ایک مخصوص زہرپیداکرتے ہیں جو حلق کے خلیات کو نقصان پہونچاتے ہیں۔  حلق کے مردہ تشو ایک جھلی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور سانس کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں جسکے نتیجہ میں ہوا گزرنے کا راستہ مسدوس ہونے کی صورت میں تنفس میں دشواری ہوتی ہے۔

یہ مخصوص زہر خون میں جذب ہو کر دوران خون کے ذریعے دل،گردے اور اعصاب کو شدید نقصان پہونچانے کا باعث بنتا ہے۔

اسکی تشخیص عام طور پر طبی علامات اور نشانیوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ لیبارٹری ٹیسٹ ضروری ہیں۔لیکن اگر خناق کی علامات موجود ہوں تو اسکا علاج فوری طور پر شروع کردیناچاہیے اور لیباریٹری رپورٹس کےانتظارمیں دیر نہیں کرنی چاہیے۔(علاج دیکھیں)  

خناق پاکستان میں بہت عام بیماری ہے۔اسکے مریضوں کی تعداد میں ایک نمایاں کمی بچوں کےویکسینیشن پروگرام پر عملدرآمدکے بعددیکھی گئی ہے۔تاہم اب بھی پاکستان میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگ خناق میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔پیدایش کے بعد بچوں میں بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکوں کو یقینی بنا کر ان واقعات کی بڑی حد تک روک تھام کی جاسکتی ہے۔ یورپ اور امریکہ میں بچوں میں بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکوں کے پروگرام پر جامع عمل درآمد کی وجہ سے خناق کے مریضوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔چنانچہ بجپن میں حفاظتی ٹیکوں میں خناق سے بچاؤ کا ٹیکہ بھی لازمی لگانا چاہیے۔ (حفاظتی ٹیکوں کا شیڈول دیکھیے)۔

خناق کی علامات انفیکشن کے 2 سے 5 دن کے اندر ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔ کسی بھی انفیکشن کی تصدیق کےلیے انکیوبیشن کی مدت درکار ہوتی ہے۔  اس دوران خناق کی مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔

تیز بخار ، 104 درجہ فارن ہائیٹ تک جاسکتا ہے

گلے کی سوزش اور بھدی آواز

کھانسی اور سانس لینے میں دشواری

سردی لگنا

کمزوری (بہت زیادہ تھکن محسوس کرنا)

نگلنے میں درد

سردرد

ناک سے بدبودار رطوبت کا اخراج

گلے کے غدود میں سوزش اور سوجن

• مریض کو حلق کے پچھلی طرف ایک جھلی محسوس ہوتی ہے جس کی وجہ سے سانس لینے میں اور نگلنے میں رکاوٹ ہوتی ہے۔اس جھلی کو اگر ہٹانے کی کوشش کی جائے تو خون جاری ہوسکتا ہے۔

کچھ لوگ ایک معتدل قسم کے خناق میں مبتلا ہوتے ہیں جس میں وہ مندرجہ بالا علامات میں سے کوئی بھی یا زیادہ ترعلامات نہیں محسوس  کرتے تاہم وہ اب
بھی دوسروں کو انفیکشن منتقل کرسکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو کیریر تصور کیا جاتا ہ

جلد کا خناق۔

خناق جلد میں انفیکشن پیدا کرسکتاہے۔ تاہم یہ بہت غیر معمولی ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر جب پیدا ہوتا ہے جب ذاتی حفضان صحت کے معیار مناسب طور پر نہیں اپنائے جاتے۔ مریض ایسی صورت میں ٹانگوں ، پیروں اور بازؤں میں پیپ بھرے چھالے پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ چھالے بڑے السر کی شکل اختیار کرہیتے ہیں اور جلدپر زخم کی طرح نظر آتے ہیں۔ یہ زخم ٹھیک ہونے میں لمبا عرصہ (دو سے تین ماہ تک) لگ سکتا ہے۔

خناق بیکٹیریا سے پیدا ہوتا ہے۔ عام طور پر دو طرح کے بیکٹیریا خناق کا سبب بنتے ہیں:

کارینےبیکٹیرم ڈفتھری Corynebacterium diphtheria

کارینے بیکٹیرم السرانس Corynebacterium ulcerans

بیکٹیریا ایک متاثرہ فرد کے منہ اور ناک کی رطوبت کے ذریعے کسی غیر متاثرہ شخص تک منتقل ہوسکتا ہے۔ جب ایک متاثرہ شخص کھانستا یا چھینکتا ہے تو اسکی منہ اور ناک کی رطوبت پھوار کی شکل میں فضا میں شامل ہو جاتی ہے اور اسطرح ایک غیر متاثرہ شخص تک بیکٹیریا منتقل کرنے کا سبب بنتی ہے۔یہ باریک بوندیں ہوا میں نظر نہیں آتیں۔ خوردبینی جرثومہ متاثرہ شخص کے استعمال کی اشیاء مثلاً تولیہ،کپڑے،برتن اور کھلونوں کے ذریعے بھی غیر متاثرہ شخص تک منتقل ہوسکتاہے۔

ایک دفعہ اگر یہ بیکٹیریا جسم میں داخل ہوگیاتو یہ خود بخود حلق اور ناک کی اندرونی سطح پر اپنی تعداد تیزی سے بڑھانا شروع کردیتا ہے۔یہ بیکٹیریا زہریلا مادہ پیدا کرتا ہے جو حلق اورناک کی اندرونی سطح کے خلیے اور ٹشوز کو ہلاک کرنا شروع کردیتا ہے۔ مردہ خلیے/ٹشوز حلق کے اندر ایک جھلی پیدا کرتے ہیں جو سانس کی نالی میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہے اور یہ زہریلا مادہ دل، گردے اور اعصاب کو نقصان پہونچاتا ہے جب خون میں جذب ہوکر دوران خون میں شامل ہوجاتاہے۔

خناق شاذونادر ہی جِلدی انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ شکایت عام طور پر اس صورت میں ہوتی ہے جب ذاتی حفضان صحت کے معیار کو برقرار نہ رکھا جائے۔ جِلدی انفیکشن کی صورت میں یہ جرثومہ زخم کے ذریعے غیر متاثرہ افراد کو متاثر کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

ڈاکٹر کسی مریض میں خناق کا شبہ کرسکتا ہے اگر مریض (بچہ) گلے میں سوزش اور نگلنے میں دشواری کی شکایت کے ساتھ ایک سرمئی رنگت کی جھلی جوگلے کے غدود کو چھپا لے نظر آئے۔ ڈاکٹر یا لیب ٹیکنیشین حلق سے نمونہ لے سکتے ہیں جس کے ٹیسٹ کے مثبت نتیجہ کے ذریعے مرض کی واضح تشخیص ہوسکتی ہے۔

خناق کے جلدی انفیکشن کی صور ت میں مواد کے نمونہ حاصل کرکے جلد سے جلد لیباریٹری میں ٹیسٹ کے لیے بھیجنا چاہیے۔

علامات اور طبی نشانیوں کی بنیاد پر اگر خناق کا شبہ ہو تو فوراً علاج شروع کردینا چاہیے لیباریٹری ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔

 

کیونکہ خناق ایک سنگین بیماری ہے چنانچہ اس کا علاج فہری طورپر شروع کردینا چاہیے۔

اگر خناق کا شبہ ہو تو مریض کو ہسپتال میں داخل کرنا بہترین حکمت عملی ہوتا ے۔ اسطرح مریض کو دوسرے افراد سے الگ تھلگ رکھنا اور انفیکشن کو اور لوگوں اور طبی عملے میں پھیلنے سے روکنے میں مدد ملتی ہے۔

حلق کے اندر موجود جھلی اگر تنفس کودشوار بنارہی ہو تو جھلی کو جزوی یا مکمل طور پر الگ کرنے کے لیے معمولی جراحی کے عمل سے مدد لی جاسکتی ہے۔

تریاقی علاج

خناق کے مریض کو خناق کے زہریلے مادہ کے مخصوص تریاق پر مشتمل علاج شروع کرنا چاہیے۔ تریاق ایسی دوائیں ہیں جو زہریلا مادہ بےاثر بناتی ہیں۔ مخصوص زہریلے مادوں کے لیے مخصوص تریاق ہیں مثلاً خناق کے جرثومہ کے زہر کے لیے جو تریاق استعمال ہوتا ہے وہ صرف خناق ہی کے لیے موثر ہوتا ہے۔اسی طرح تشنج کے لیے مخصوص تریاق تشنج کے لیے ہی موثر ہے۔

مریض کو تریاق دینے سے پہلے یہ تجویز کیا جاسکتاہے کہ مریض کی جلد کی حساسیت یا موافقت کا ٹیست ضرور کرانا چاہیے تاکہ تریاق میں شامل اجزاء کے ردعمل کا خطرہ نہ رہے۔

ضد نامیاتی Antibiotic

ضدنامیاتی( جراثیم کش ادویات) علاج بھی خناق کے معالجہ لے لیے ضروری ہے۔ جراثیم کش ادویات بیکٹیریا کو تلف کرتی ہیں۔

Author Avatar

About Author

Loremipsumdolorsitamet,consecteturadipisicingelit,seddoeiusmodtemporincididuntutlaboreetdoloremagnaaliquatenimadminimveniam.Eascxcepteursintoccaecatcupidatatnonproident,suntinculpaquiofficiadeserunt.

Add Comments